میں آپ سب دوستوں کو سلام پیش کرتا ہوں! آج کل بجلی کے بڑھتے ہوئے بل اور آئے دن کی لوڈشیڈنگ ہر پاکستانی کی سب سے بڑی پریشانی بن چکی ہے۔ میں خود بھی کئی بار اس صورتحال سے گزر چکا ہوں جہاں آدھی رات کو بجلی چلی جاتی ہے اور پنکھا بھی بند ہو جاتا ہے، گرمی سے برا حال ہو جاتا ہے۔ ایسے میں بہت سے لوگوں نے شمسی توانائی کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے، جو ایک بہترین حل ہے۔ لیکن کیا شمسی توانائی لگوانا اتنا آسان ہے؟ کیا اس کا بنیادی ڈھانچہ واقعی اتنا بہتر ہو چکا ہے کہ ہم سب اس سے مکمل فائدہ اٹھا سکیں؟میرے اپنے تجربے کے مطابق، شمسی توانائی کا استعمال صرف پینل لگوانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے مضبوط اور جدید انفراسٹرکچر کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں میں شمسی توانائی کے پینلز کی درآمد میں بہت تیزی آئی ہے، بلکہ 2024 میں پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ سولر پینل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل تھا۔ یہ ایک خاموش انقلاب کی طرح ہے جہاں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اس طرف آ رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکومتی ادارے اور نجی شعبہ اس رفتار سے ساتھ دے پا رہے ہیں؟ کیا اس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات ہو رہے ہیں؟ جیسے بجلی ذخیرہ کرنے کے جدید طریقے (بیٹری اسٹوریج) اور گرڈ کے ساتھ بہتر انضمام۔ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ بس پینل لگوا لیے اور کام ہو گیا، لیکن اصل چیلنج اس توانائی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے، ذخیرہ کرنے اور ضرورت پڑنے پر گرڈ کو واپس بیچنے میں ہے۔ اس شعبے میں نئی ٹیکنالوجیز، جیسے پیرووسکائٹ ٹینڈم سیل اور بائفاسیل پینلز، کا مستقبل بہت روشن ہے، جو زیادہ کارکردگی اور کم لاگت میں توانائی فراہم کر سکتے ہیں۔ آئیے، نیچے اس بلاگ میں شمسی توانائی کی تنصیب کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے جدید طریقوں اور چیلنجز پر تفصیل سے نظر ڈالتے ہیں۔
شمسی توانائی کا پہلا قدم: صحیح انتخاب اور تنصیب کا چیلنج

جب میں نے پہلی بار اپنے گھر پر شمسی توانائی لگوانے کا سوچا تو سب سے بڑا چیلنج صحیح پینلز اور انورٹرز کا انتخاب تھا۔ مارکیٹ میں اتنے مختلف برانڈز اور اقسام دستیاب ہیں کہ عام آدمی کے لیے فیصلہ کرنا واقعی مشکل ہو جاتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ سستے پینلز کے چکر میں آ جاتے ہیں جو بعد میں بجلی کی مطلوبہ پیداوار نہیں دے پاتے یا پھر خراب ہو جاتے ہیں۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ سستا لے کر بعد میں پچھتانے سے بہتر ہے کہ ایک بار اچھی چیز میں سرمایہ کاری کی جائے۔ ایک دوست نے بتایا کہ انہوں نے نامعلوم چینی کمپنی کے پینلز لگوا لیے تھے جو چند ماہ بعد ہی خراب ہونا شروع ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ اعلیٰ معیار کے پینلز کا انتخاب کرنا چاہیے جو معروف برانڈز کے ہوں اور جن کی وارنٹی بھی مضبوط ہو۔ اسی طرح انورٹر کا کردار بھی بہت اہم ہے، جو شمسی توانائی کو گھر میں استعمال ہونے والی بجلی میں تبدیل کرتا ہے۔ ہائبرڈ انورٹرز آج کل زیادہ مقبول ہو رہے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف شمسی توانائی کو گرڈ سے جوڑتے ہیں بلکہ بیٹری میں بھی بجلی ذخیرہ کر سکتے ہیں، جس سے لوڈشیڈنگ کے دوران بھی آرام رہتا ہے۔ میرے محلے میں ایک صاحب نے صرف آن-گرڈ انورٹر لگایا تھا اور جب لوڈشیڈنگ ہوتی تھی تو سارا سسٹم بند ہو جاتا تھا، حالانکہ دھوپ میں پینلز بجلی بنا رہے ہوتے تھے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس سے بچنے کے لیے صحیح انورٹر کا انتخاب بہت ضروری ہے۔
بہترین پینلز اور انورٹرز کا انتخاب کیوں ضروری ہے؟
دیکھیں، شمسی توانائی کے نظام میں پینلز اور انورٹرز دل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ دونوں چیزیں اچھی نہیں ہوں گی تو آپ کا سارا سسٹم بیکار ہو سکتا ہے۔ میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو صرف قیمت پر سمجھوتہ کرتے ہیں اور پھر پریشان ہوتے ہیں۔ معیاری پینلز جیسے مونوکریسٹلائن یا بائیفاسیل پینلز زیادہ کارکردگی دیتے ہیں اور ان کی عمر بھی لمبی ہوتی ہے۔ جبکہ سستے پینلز کی کارکردگی وقت کے ساتھ ساتھ بہت کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح، انورٹر کا معیار بھی براہ راست آپ کے سسٹم کی کارکردگی اور حفاظت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک اچھے انورٹر میں تحفظ کے بہت سے فیچرز ہوتے ہیں جو اوور لوڈنگ یا شارٹ سرکٹ کی صورت میں آپ کے گھر کے آلات کو محفوظ رکھتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ٹائر 1 برانڈز کے پینلز اور معروف یورپی یا چینی انورٹرز کی سفارش کرتا ہوں کیونکہ ان کی کارکردگی اور وارنٹی قابل بھروسہ ہوتی ہے۔ ان برانڈز کے پینلز کی عام طور پر 25 سال کی پرفارمنس وارنٹی ہوتی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ واقعی پائیدار ہوتے ہیں۔ یہ میری ذاتی رائے اور تجربہ ہے جو میں آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔
مقامی تنصیب کاروں کی مہارت اور چیلنجز
پینلز اور انورٹرز کے انتخاب کے بعد سب سے اہم مرحلہ تنصیب کا ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ پیسے بچانے کے چکر میں غیر تجربہ کار مقامی تنصیب کاروں سے کام کروا لیتے ہیں، جس کا نتیجہ بعد میں کئی مسائل کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایک دفعہ میں نے ایک گھر میں دیکھا کہ پینلز کی وائرنگ ٹھیک سے نہیں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے بجلی کا نقصان ہو رہا تھا اور آگ لگنے کا خطرہ بھی موجود تھا۔ یہ بہت خطرناک صورتحال ہو سکتی ہے۔ شمسی توانائی کے نظام کی صحیح تنصیب کے لیے ماہر اور تربیت یافتہ افراد کا ہونا بہت ضروری ہے جو نہ صرف حفاظت کے اصولوں کا خیال رکھیں بلکہ سسٹم کو اس طرح سے ڈیزائن کریں کہ وہ زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کر سکے۔ میرے علاقے میں ایک کمپنی ہے جو باقاعدہ تربیت یافتہ انجینئرز کے ذریعے تنصیب کا کام کرتی ہے اور ان کا کام واقعی بہترین ہے۔ ان کی سروس میں بعد میں سسٹم کی مانیٹرنگ اور دیکھ بھال بھی شامل ہوتی ہے۔ ایسے ہی تجربہ کار تنصیب کاروں کا انتخاب کرنا چاہیے جن کی مارکیٹ میں اچھی ساکھ ہو اور جو بعد میں سروس بھی فراہم کریں۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں معمولی سی لاپرواہی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
بجلی ذخیرہ کرنے کا مسئلہ: کیا بیٹریاں ہی حل ہیں؟
شمسی توانائی کی دنیا میں ایک بڑا چیلنج بجلی کو ذخیرہ کرنا ہے۔ دن کے وقت جب سورج خوب چمک رہا ہوتا ہے تو پینلز وافر مقدار میں بجلی پیدا کرتے ہیں، لیکن رات کو یا بادل چھائے ہونے کی صورت میں بجلی کی پیداوار رک جاتی ہے۔ ایسے میں بیٹری سٹوریج سسٹم ہی ہمارا سب سے بڑا سہارا بنتا ہے۔ میں نے خود کئی بار تجربہ کیا ہے کہ جب بجلی چلی جاتی ہے تو بیٹری سسٹم کا ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔ میرے ایک دوست نے پہلے بیٹری کے بغیر ہی سسٹم لگوا لیا تھا، پھر جب لوڈشیڈنگ ہوتی تو وہ بجلی کی فراہمی کے لیے گرڈ پر ہی انحصار کرتے تھے۔ ایک دن شدید گرمی میں ان کے علاقے میں 10 گھنٹے بجلی نہیں آئی اور وہ بہت پریشان تھے کیونکہ ان کا سولر سسٹم کام نہیں کر رہا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے بیٹری سسٹم لگوایا اور اب وہ لوڈشیڈنگ کے دوران بھی آرام سے اپنے گھر میں روشنی اور پنکھوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔ بیٹری کی اقسام اور ان کی کارکردگی بھی وقت کے ساتھ بہت بہتر ہوئی ہے۔ آج کل لیتھیم آئن بیٹریاں بہت مقبول ہیں کیونکہ یہ زیادہ دیر تک چلتی ہیں، ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور وہ روایتی لیڈ ایسڈ بیٹریوں کے مقابلے میں کم جگہ گھیرتی ہیں۔ لیکن ان کی ابتدائی لاگت تھوڑی زیادہ ہوتی ہے۔
جدید بیٹری ٹیکنالوجیز کی اہمیت
جدید بیٹری ٹیکنالوجیز شمسی توانائی کے نظام کو مکمل طور پر خود مختار بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ پہلے ہم صرف لیڈ ایسڈ بیٹریوں پر انحصار کرتے تھے جو کم کارکردگی اور مختصر زندگی کی حامل ہوتی تھیں۔ لیکن اب لیتھیم آئن بیٹریاں اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز جیسے فلو بیٹریز منظر عام پر آ چکی ہیں۔ لیتھیم آئن بیٹریاں نہ صرف زیادہ بجلی ذخیرہ کرتی ہیں بلکہ ان کی چارجنگ اور ڈسچارجنگ سائیکل بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ انہیں ہزاروں بار چارج اور ڈسچارج کر سکتے ہیں اور ان کی کارکردگی برقرار رہتی ہے۔ میرے ایک عزیز نے دو سال پہلے اپنے سولر سسٹم کے ساتھ لیتھیم آئن بیٹریاں لگوائی تھیں اور وہ آج بھی بالکل نئے جیسی کارکردگی دے رہی ہیں، جبکہ لیڈ ایسڈ بیٹریاں عام طور پر دو سے تین سال بعد ہی کمزور پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جو آپ کی سرمایہ کاری کو طویل مدت تک محفوظ رکھتا ہے۔ جدید بیٹریاں نہ صرف آپ کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلاتی ہیں بلکہ یہ آپ کو گرڈ پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہیں، جس سے بجلی کے بلوں میں مزید کمی آتی ہے۔
لاگت اور کارکردگی کا توازن
بیٹری سسٹم لگوانے کا فیصلہ کرتے وقت لاگت اور کارکردگی کا توازن برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ جہاں ایک طرف لیتھیم آئن بیٹریاں بہترین کارکردگی دیتی ہیں، وہیں ان کی ابتدائی لاگت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ دوسری طرف، لیڈ ایسڈ بیٹریاں سستی ضرور ہوتی ہیں لیکن ان کی زندگی کم ہوتی ہے اور انہیں باقاعدہ دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے۔ میں نے ایک بار ایک صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بجٹ کے مطابق بہترین آپشن کا انتخاب کریں۔ اگر آپ کا بجٹ اجازت دیتا ہے تو لیتھیم آئن بیٹریاں طویل مدت میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں کیونکہ ان کی دیکھ بھال کی ضرورت کم ہوتی ہے اور ان کی زندگی لمبی ہوتی ہے۔ جبکہ کم بجٹ والے افراد لیڈ ایسڈ بیٹریوں سے بھی کام چلا سکتے ہیں، لیکن انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ انہیں کچھ سالوں بعد تبدیل کرنا پڑے گا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو آپ کی ذاتی ضروریات اور بجٹ پر منحصر ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ صرف ابتدائی لاگت کو دیکھتے ہیں اور بعد میں دیکھ بھال کے اخراجات یا جلد تبدیلی کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ سمجھداری ہے کہ ایک متوازن فیصلہ کیا جائے جو آپ کو طویل مدت میں فائدہ دے۔
| بیٹری کی قسم | ابتدائی لاگت | زندگی (سال) | کارکردگی | دیکھ بھال |
|---|---|---|---|---|
| لیڈ ایسڈ | کم | 2-3 | اوسط | زیادہ |
| لیتھیم آئن | زیادہ | 7-15 | بہترین | کم |
| فلو بیٹریز | متوسط | 10-20 | بہت اچھی | کم |
نیٹ میٹرنگ: اپنے اضافی بجلی کو کیسے کمائیں؟
نیٹ میٹرنگ ایک ایسا نظام ہے جس نے شمسی توانائی کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ یہ آپ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ اگر آپ کا سولر سسٹم ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے تو آپ وہ اضافی بجلی واپس گرڈ کو بیچ سکیں اور اس کے بدلے میں اپنے بجلی کے بل میں کمی حاصل کر سکیں۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ واقعی ایک بہترین آپشن ہے۔ جب میں نے نیٹ میٹرنگ سسٹم لگوایا تو شروع میں مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیسے کام کرے گا، لیکن جب میرے پہلے بل میں یونٹس کم آئے اور مجھے کریڈٹ ملنا شروع ہوا تو میری خوشی کی انتہا نہیں رہی۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو آپ کی اضافی پیداوار کو ضائع نہیں ہونے دیتا بلکہ اس کا آپ کو مالی فائدہ بھی پہنچاتا ہے۔ پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کافی بہتر ہوئی ہے، لیکن ابھی بھی اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس کے طریقہ کار کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہوتی، اور وہ سوچتے ہیں کہ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے، اگر آپ کسی قابل اعتماد تنصیب کار سے رابطہ کریں تو وہ آپ کو اس سارے عمل میں رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔
نیٹ میٹرنگ کا طریقہ کار اور فوائد
نیٹ میٹرنگ کا طریقہ کار بہت آسان ہے۔ آپ کا سولر سسٹم بجلی پیدا کرتا ہے اور آپ کے گھر کی ضروریات پوری کرنے کے بعد جو اضافی بجلی بچتی ہے، وہ میٹر کے ذریعے گرڈ میں چلی جاتی ہے۔ جب آپ گرڈ سے بجلی استعمال کرتے ہیں (مثلاً رات کے وقت)، تو میٹر اس کو بھی ریکارڈ کرتا ہے۔ مہینے کے آخر میں، آپ کے بجلی کے بل میں دونوں کا حساب کتاب کیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے گرڈ کو زیادہ بجلی دی ہے تو آپ کو کریڈٹ ملتا ہے، اور اگر آپ نے گرڈ سے زیادہ استعمال کی ہے تو آپ کو صرف اضافی بجلی کا بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے ان کا بجلی کا بل تقریباً صفر ہو گیا ہے، اور بعض اوقات تو انہیں واپڈا کی طرف سے کریڈٹ بھی ملتا ہے۔ یہ واقعی ایک بہت بڑا فائدہ ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو بڑے سولر سسٹم لگواتے ہیں۔ اس سے نہ صرف آپ کے ماہانہ اخراجات کم ہوتے ہیں بلکہ آپ ایک طرح سے بجلی پیدا کرنے والے بھی بن جاتے ہیں۔ یہ ایکWin-Win صورتحال ہے جہاں آپ اور ماحول دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔
حکومتی پالیسیوں کی اہمیت
نیٹ میٹرنگ کے نظام کو کامیاب بنانے میں حکومتی پالیسیوں کا کردار بہت اہم ہے۔ اگر پالیسیاں واضح، آسان اور مستحکم ہوں گی تو زیادہ سے زیادہ لوگ شمسی توانائی کی طرف راغب ہوں گے۔ پاکستان میں شروع میں نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے کچھ مسائل تھے، لیکن اب حالات بہت بہتر ہوئے ہیں۔ تاہم، ابھی بھی کچھ انتظامی رکاوٹیں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات نئے کنکشنز کے لیے منظوری میں بہت وقت لگ جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہوتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ نیٹ میٹرنگ کے عمل کو مزید تیز اور شفاف بنائے تاکہ لوگ آسانی سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے علاوہ، نیٹ میٹرنگ کے نرخوں کو بھی وقتاً فوقتاً ازسر نو جائزہ لینا چاہیے تاکہ صارفین کو ان کی اضافی بجلی کا مناسب معاوضہ مل سکے۔ ایک مستحکم اور معاون پالیسی ماحول شمسی توانائی کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ عوام کا اعتماد بڑھاتا ہے اور انہیں اس جانب سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
حکومت کا کردار اور ہماری توقعات
میرے خیال میں شمسی توانائی کے فروغ میں حکومت کا کردار سب سے اہم ہے۔ ہم لوگ اپنی سطح پر تو کوشش کر رہے ہیں، لیکن جب تک حکومتی سطح پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں ہوں گے، اس شعبے میں وہ انقلاب نہیں آ سکتا جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ میں نے کئی ممالک میں دیکھا ہے جہاں حکومتیں شمسی توانائی کو فروغ دینے کے لیے زبردست سبسڈی اور آسان قرضوں کی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ میرے ایک محلے دار نے بتایا کہ انہوں نے سولر سسٹم لگوانے کے لیے بینک سے رابطہ کیا تو قرضے کی شرائط اتنی سخت تھیں کہ وہ ہمت ہار گئے۔ اگر حکومت ایسے آسان قرضوں کے پروگرام شروع کرے جن میں شرح سود کم ہو اور اقساط بھی آسان ہوں، تو بہت سے لوگ جو مالی مشکلات کی وجہ سے سولر نہیں لگوا پاتے، وہ بھی اس طرف آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت کو چاہیے کہ سولر پینلز اور متعلقہ آلات کی درآمد پر ٹیکس کم کرے تاکہ یہ عام آدمی کی پہنچ میں آ سکیں۔ جب تک سولر سسٹم مہنگے رہیں گے، اس کا پھیلاؤ محدود رہے گا۔
سبسڈی اور مالیاتی امداد کی ضرورت
سبسڈی اور مالیاتی امداد شمسی توانائی کو عام کرنے کے لیے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ اگر حکومت ابتدائی لاگت میں کچھ حصہ ڈال دے یا سبسڈی دے دے تو لوگوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر حکومت سولر پینلز پر سیلز ٹیکس میں رعایت دے یا چھوٹے اور درمیانے درجے کے صارفین کے لیے سبسڈی پروگرام شروع کرے، تو یہ بہت مثبت اثر ڈالے گا۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک نے ایسا کر کے شمسی توانائی کے استعمال کو کئی گنا بڑھایا ہے۔ ایک بار میں نے ایک اخبار میں پڑھا کہ حکومت چھوٹے پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے کچھ قرضوں کی پیشکش کر رہی ہے، لیکن ان کی تشہیر اتنی کم تھی کہ بہت کم لوگوں کو اس کا علم ہو سکا۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے پروگرامز کو فعال بنائے اور ان کی بھرپور تشہیر کرے تاکہ ہر طبقے کے لوگ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ صرف پیسہ نہیں بلکہ قوم کی ترقی کا مسئلہ ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں شراکت
حکومت کا کردار صرف مالی امداد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے شمسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس میں گرڈ سسٹم کو مضبوط کرنا، بجلی ذخیرہ کرنے کے بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کرنا، اور سمارٹ گرڈ ٹیکنالوجیز کو متعارف کرانا شامل ہے۔ میں نے ایک بار ایک فورم پر پڑھا کہ پاکستان میں سمارٹ گرڈ ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے شمسی توانائی کی پیداوار کو مؤثر طریقے سے گرڈ میں شامل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سمارٹ گرڈ سسٹم بجلی کی فراہمی کو زیادہ مستحکم اور قابل اعتماد بناتا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت کو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (R&D) میں بھی سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ مقامی سطح پر شمسی توانائی کی ٹیکنالوجیز کو بہتر بنایا جا سکے۔ جب ہمارے اپنے انجینئرز اور سائنسدان اس پر کام کریں گے تو ہم دوسروں پر انحصار کم کر سکیں گے اور اپنی ضروریات کے مطابق حل نکال سکیں گے۔ یہ ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس پر آج ہی سے کام شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
جدید شمسی ٹیکنالوجیز: مستقبل کی روشنی

جب ہم شمسی توانائی کے بارے میں سوچتے ہیں تو اکثر ہمارے ذہن میں وہی پرانے نیلے پینلز آتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ شعبہ بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ آج کل ایسی جدید ٹیکنالوجیز آ چکی ہیں جو زیادہ کارکردگی اور کم لاگت میں بجلی پیدا کر سکتی ہیں۔ میں نے حال ہی میں پیرووسکائٹ ٹینڈم سیلز کے بارے میں پڑھا، جو روایتی سلیکون پینلز سے زیادہ کارآمد ہیں۔ یہ پینلز پتلے، لچکدار اور ہلکے ہوتے ہیں اور کم روشنی میں بھی بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے، خاص طور پر ہمارے جیسے ملک کے لیے جہاں دن کے اکثر اوقات میں دھوپ بہت تیز ہوتی ہے، لیکن صبح یا شام کو روشنی کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بائیفاسیل پینلز بھی ایک اور دلچسپ ٹیکنالوجی ہیں جو پینل کے دونوں اطراف سے روشنی کو جذب کر کے بجلی پیدا کرتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر ان ٹیکنالوجیز کو پاکستان میں متعارف کرایا جائے تو شمسی توانائی کی پیداوار میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ مستقبل کی روشنی ہیں جو ہمیں توانائی کے بحران سے نکال سکتی ہیں۔
پیرووسکائٹ اور بائفاسیل پینلز کی خصوصیات
پیرووسکائٹ سولر سیلز ابھی تحقیق کے مراحل میں ہیں لیکن ان کا مستقبل بہت روشن نظر آتا ہے۔ میں نے ایک سائنسی جریدے میں پڑھا کہ یہ سیلز سلیکون کے مقابلے میں زیادہ کارکردگی دے سکتے ہیں اور انہیں بنانے میں لاگت بھی کم آتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم کم پیسوں میں زیادہ بجلی پیدا کر سکیں گے۔ ان کی ایک اور زبردست خصوصیت یہ ہے کہ یہ مختلف رنگوں میں بنائے جا سکتے ہیں اور لچکدار ہونے کی وجہ سے انہیں مختلف سطحوں پر نصب کیا جا سکتا ہے، جیسے کھڑکیوں پر یا عمارتوں کے اگواڑے پر۔ اسی طرح بائیفاسیل پینلز کی بات کریں تو یہ ایسے پینلز ہیں جو اوپر کی طرف سے دھوپ جذب کرنے کے ساتھ ساتھ نیچے کی طرف سے منعکس شدہ روشنی کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ میں نے ایک یوٹیوب ویڈیو میں دیکھا کہ اگر انہیں کسی سفید چھت یا روشنی منعکس کرنے والی سطح پر نصب کیا جائے تو یہ 30 فیصد تک زیادہ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی مؤثر اور جدید طریقہ ہے جو ہمیں شمسی توانائی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد دے سکتا ہے۔
پاکستان میں ان کا اطلاق
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ جدید ٹیکنالوجیز پاکستان میں عملی طور پر قابل اطلاق ہیں؟ میرے خیال میں بالکل ہیں۔ اگرچہ ان کی ابتدائی لاگت شاید روایتی پینلز سے تھوڑی زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں ان کی زیادہ کارکردگی اور پائیداری انہیں ایک بہترین سرمایہ کاری بناتی ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو چاہیے کہ وہ ان نئی ٹیکنالوجیز کی تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کریں اور انہیں مقامی مارکیٹ میں متعارف کرائیں۔ میں نے سنا ہے کہ کچھ یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے پیرووسکائٹ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں، جو ایک بہت خوش آئند بات ہے۔ اگر ہم اپنی ضروریات کے مطابق ان ٹیکنالوجیز کو ڈھال سکیں تو ہم نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ برآمدی مارکیٹ میں بھی قدم جما سکتے ہیں۔ یہ ایک سنہری موقع ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں اور توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہوں۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک بہتر اور روشن مستقبل کی امید ہے۔
سولر سسٹم کی دیکھ بھال: ایک اہم ذمہ داری
سولر سسٹم لگوا لینا ہی کافی نہیں، اس کی باقاعدہ دیکھ بھال بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو سسٹم تو لگوا لیتے ہیں لیکن پھر اس کی صفائی اور دیکھ بھال پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پینلز کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے اور بجلی کی پیداوار میں کمی آ جاتی ہے۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ اگر آپ اپنے سولر سسٹم کی باقاعدگی سے دیکھ بھال کریں تو وہ طویل عرصے تک بہترین کارکردگی دیتا ہے۔ ایک دفعہ میرے ایک دوست نے اپنے پینلز کی کئی مہینوں تک صفائی نہیں کی تھی اور جب ہم نے دیکھا تو ان پر دھول اور مٹی کی ایک موٹی تہہ جم گئی تھی۔ جب اس کی صفائی کی گئی تو ان کی بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ ایک بہت چھوٹی سی بات لگتی ہے لیکن اس کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح، وائرنگ کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور انورٹر کے کنکشنز کو چیک کرنا بھی بہت ضروری ہے تاکہ کوئی مسئلہ پیش نہ آئے۔ یہ ہماری ایک اہم ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے سرمایہ کاری کو محفوظ رکھیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔
باقاعدہ صفائی اور معائنہ کیوں ضروری ہے؟
سولر پینلز کی سطح پر مٹی، دھول، پرندوں کی بیٹ اور دیگر گندگی جمع ہونے سے سورج کی روشنی کی پینلز تک رسائی کم ہو جاتی ہے، جس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ میں نے ایک مطالعہ میں پڑھا تھا کہ اگر پینلز گندے ہوں تو ان کی کارکردگی 15 سے 20 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے جسے صرف باقاعدہ صفائی سے بچایا جا سکتا ہے۔ میں خود مہینے میں کم از کم ایک بار اپنے پینلز کی صفائی کرتا ہوں، خاص طور پر بارشوں کے بعد یا جب موسم زیادہ گرد آلود ہو۔ اس کے علاوہ، سسٹم کا سالانہ معائنہ بھی بہت ضروری ہے جس میں کسی ماہر ٹیکنیشن سے وائرنگ، کنکشنز اور انورٹر کی جانچ کروائی جائے۔ اس سے کسی بھی ممکنہ مسئلے کا بروقت پتہ چل جاتا ہے اور اسے حل کیا جا سکتا ہے قبل اس کے کہ وہ بڑا مسئلہ بن جائے۔ یہ وہی مثال ہے کہ “احتیاط علاج سے بہتر ہے”۔ اگر آپ اپنے سسٹم کی دیکھ بھال میں سستی کریں گے تو آپ کو بعد میں زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
عام مسائل اور ان کا حل
سولر سسٹم میں کچھ عام مسائل پیش آ سکتے ہیں، جیسے پینلز کی کارکردگی میں کمی، انورٹر کا کام نہ کرنا، یا وائرنگ کے مسائل۔ میں نے ایک بار اپنے انورٹر میں ایک چھوٹی سی خرابی دیکھی تھی، جس کی وجہ سے سسٹم بجلی پیدا نہیں کر رہا تھا۔ میں نے فوراً تنصیب کار سے رابطہ کیا اور انہوں نے آ کر اسے ٹھیک کر دیا۔ بروقت مسئلے کی نشاندہی اور اس کا حل بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کا انورٹر کوئی ایرر کوڈ دکھا رہا ہے، تو فوراً اس کے مینوئل کو چیک کریں یا ماہر سے رابطہ کریں۔ بعض اوقات وائرنگ میں ڈھیلا کنکشن بھی مسائل کا سبب بن سکتا ہے، جس سے بجلی کا نقصان ہوتا ہے اور شارٹ سرکٹ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح، بیٹریوں کی دیکھ بھال بھی بہت ضروری ہے، خاص طور پر لیڈ ایسڈ بیٹریوں میں پانی کا لیول چیک کرنا اور انہیں صاف رکھنا۔ لیتھیم آئن بیٹریوں کو اتنی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان تمام مسائل سے بچنے کے لیے ایک قابل اعتماد کمپنی سے سروس اور دیکھ بھال کا معاہدہ کرنا بہترین حل ہے۔ اس سے آپ کا ذہن پرسکون رہتا ہے اور آپ کا سسٹم بہترین کارکردگی دیتا رہتا ہے۔
شمسی توانائی کی مالی معاونت: آسان اقساط کا خواب
شمسی توانائی کو اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی ابتدائی لاگت ہوتی ہے۔ ایک اچھا سولر سسٹم لگوانے میں لاکھوں روپے کا خرچہ آ سکتا ہے، جو ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ چاہتے ہوئے بھی شمسی توانائی کی طرف نہیں آ پاتے۔ لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اب بینکوں اور حکومتی سطح پر ایسی اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں جو آسان اقساط پر سولر سسٹم لگوانے میں مدد دیتی ہیں۔ میرا ایک رشتہ دار جو ایک عام ملازمت پیشہ شخص ہے، انہوں نے حال ہی میں ایک بینک سے قرض لے کر اپنے گھر پر سولر سسٹم لگوایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آسان اقساط کی وجہ سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور اب وہ اپنے بجلی کے بل میں نمایاں کمی دیکھ کر بہت خوش ہیں۔ یہ ایک ایسا سنہری موقع ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ ہم بھی مہنگی بجلی سے نجات حاصل کر سکیں۔
بینکوں کی آسان اقساط کے منصوبے
پاکستان کے کئی بڑے بینک اب شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے آسان اقساط پر قرضے فراہم کر رہے ہیں۔ ان قرضوں کی شرائط اور شرح سود مختلف ہوتی ہے، لیکن ان کا بنیادی مقصد لوگوں کو سولر سسٹم لگوانے میں مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ میں نے ایک بینک کے نمائندے سے بات کی تھی جنہوں نے بتایا کہ وہ اپنے صارفین کو 3 سے 7 سال کی اقساط پر قرضے فراہم کر رہے ہیں، اور کچھ اسکیموں میں کم شرح سود بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ قرضے نہ صرف سولر پینلز اور انورٹرز کی خریداری کے لیے ہوتے ہیں بلکہ تنصیب کے اخراجات کو بھی کور کرتے ہیں۔ میں نے خود مختلف بینکوں کی پیشکشوں کا موازنہ کیا تھا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اب کتنے آسان طریقے سے سولر سسٹم لگوایا جا سکتا ہے۔ آپ کو صرف اپنی بینک سٹیٹمنٹس اور دیگر ضروری دستاویزات فراہم کرنی ہوتی ہیں، اور بینک آپ کی اہلیت کا جائزہ لے کر قرض منظور کر دیتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی سہولت ہے جو لوگوں کو مہنگی بجلی سے نجات دلانے میں مدد کر رہی ہے۔
حکومتی قرضے اور ان کے حصول کے طریقے
بینکوں کے علاوہ، حکومت بھی مختلف اسکیموں کے تحت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے قرضے فراہم کرتی ہے۔ یہ اسکیمیں عام طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے صارفین کے لیے ہوتی ہیں تاکہ وہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ میں نے ایک خبر میں پڑھا تھا کہ حکومت نے شمسی توانائی کو فروغ دینے کے لیے ایک فنڈ قائم کیا ہے جس سے لوگ آسان شرائط پر قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ ان قرضوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ ان کی شرح سود بہت کم ہوتی ہے اور ادائیگی کی مدت بھی زیادہ ہوتی ہے، جس سے ماہانہ قسط کم ہو جاتی ہے۔ ان قرضوں کے حصول کے لیے آپ کو متعلقہ سرکاری اداروں یا بینکوں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے جو ان اسکیموں کو چلا رہے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ان قرضوں کے لیے کچھ خاص شرائط بھی ہوتی ہیں، جیسے گھر کا سائز یا بجلی کی کھپت کی حد۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے علاقے میں موجود بینکوں اور حکومتی اداروں سے رابطہ کریں اور ان کی موجودہ اسکیموں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ اس سے آپ کو اپنی ضروریات کے مطابق بہترین حل مل جائے گا اور آپ بھی شمسی توانائی کے فوائد سے مستفید ہو سکیں گے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو آپ کے بجٹ کو متاثر کیے بغیر آپ کو توانائی میں خود کفیل بنا سکتا ہے۔
گفتگو کا اختتام
تو میرے پیارے دوستو! جیسا کہ ہم نے دیکھا، شمسی توانائی کا مستقبل واقعی بہت روشن ہے اور یہ ہمارے توانائی کے مسائل کا ایک پائیدار حل ہے۔ میں نے اپنے تجربے سے جو کچھ سیکھا اور آپ کے ساتھ شیئر کیا، اس کا مقصد صرف آپ کو یہ بتانا ہے کہ یہ سفر مشکل ضرور ہو سکتا ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ اگر ہم تھوڑی تحقیق اور صحیح رہنمائی کے ساتھ آگے بڑھیں تو اپنے گھروں کو روشن کر سکتے ہیں اور اپنے بجلی کے بلوں کو بھی الوداع کہہ سکتے ہیں۔ یہ صرف توانائی کی آزادی نہیں بلکہ ایک روشن پاکستان کی طرف ایک قدم ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس پوسٹ میں آپ کو اپنے شمسی توانائی کے سفر کو شروع کرنے کے لیے ضروری معلومات اور ترغیب ملی ہوگی۔
جاننے کے لیے کارآمد معلومات
1. معیاری سولر پینلز اور انورٹرز کا انتخاب کریں: سستے کے پیچھے بھاگنے کے بجائے، ایسے برانڈز پر سرمایہ کاری کریں جو اچھی کارکردگی اور طویل وارنٹی دیتے ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ ایک بار اچھی چیز لینے سے بار بار کی پریشانی سے بچا جا سکتا ہے اور آپ کا نظام سالوں تک بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرتا رہے گا۔ اعلیٰ کارکردگی والے پینلز جیسے مونوکریسٹلائن یا بائیفاسیل پینلز طویل مدت میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
2. بیٹری اسٹوریج پر غور کریں: اگر آپ لوڈشیڈنگ سے مکمل نجات چاہتے ہیں اور رات کے وقت یا دھوپ نہ ہونے کی صورت میں بھی بجلی کی دستیابی یقینی بنانا چاہتے ہیں تو لیتھیم آئن بیٹریاں ایک بہترین آپشن ہیں۔ یہ اگرچہ تھوڑی مہنگی ہیں لیکن طویل مدت میں ان کی بہتر کارکردگی، لمبی عمر اور کم دیکھ بھال آپ کے پیسے بچائے گی، جبکہ لیڈ ایسڈ بیٹریاں اگرچہ سستی ہیں، لیکن انہیں باقاعدہ دیکھ بھال اور جلد تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
3. نیٹ میٹرنگ کا فائدہ اٹھائیں: اپنی اضافی بجلی گرڈ کو بیچ کر اپنے بجلی کے بل میں مزید کمی لائیں۔ یہ نظام آپ کو آپ کی اضافی پیداوار کا مالی فائدہ دیتا ہے اور ایک طرح سے آپ کو بجلی پیدا کرنے والے کے طور پر بھی تسلیم کرتا ہے۔ اس کے طریقہ کار کو سمجھیں اور کسی ماہر تنصیب کار سے رابطہ کر کے اسے اپنے سسٹم میں شامل کروائیں تاکہ آپ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
4. باقاعدہ دیکھ بھال کو یقینی بنائیں: سولر پینلز کی سطح پر مٹی، دھول اور دیگر گندگی جمع ہونے سے ان کی کارکردگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ اس لیے پینلز کی باقاعدہ صفائی اور سسٹم کا سالانہ معائنہ آپ کے سولر سسٹم کی کارکردگی اور عمر کو بڑھاتا ہے۔ ایک ماہر ٹیکنیشن سے وائرنگ، کنکشنز اور انورٹر کی جانچ کروانا کسی بھی ممکنہ مسئلے کو بروقت حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
5. مالی معاونت کی اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں: اگر سولر سسٹم لگوانے کی ابتدائی لاگت کا مسئلہ ہے تو ملک میں موجود بینکوں اور حکومتی قرضہ اسکیموں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ پاکستان کے کئی بڑے بینک آسان اقساط پر شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کر رہے ہیں، جو آپ کے بجٹ کو متاثر کیے بغیر آپ کو توانائی میں خود کفیل بنا سکتے ہیں۔ اپنی اہلیت کے مطابق بہترین آپشن کا انتخاب کریں۔
اہم نکات کا خلاصہ
آخر میں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شمسی توانائی ہمارے مستقبل کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے، جو نہ صرف ہمارے بجلی کے بلوں کو کم کرتی ہے بلکہ ماحول کو بھی آلودگی سے بچاتی ہے۔ اس نظام کو اپنانے کے لیے ہمیں کئی پہلوؤں پر توجہ دینی ہو گی۔ سب سے پہلے، پینلز اور انورٹرز کا معیاری انتخاب بہت ضروری ہے تاکہ طویل مدت میں بہترین کارکردگی حاصل ہو سکے۔ دوسرے، بجلی ذخیرہ کرنے کے جدید حل، خاص طور پر لیتھیم آئن بیٹریاں، لوڈشیڈنگ کے مسائل کا مؤثر حل فراہم کرتی ہیں۔ تیسرے، نیٹ میٹرنگ کے ذریعے اضافی بجلی کو گرڈ میں بیچ کر مالی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ چوتھے، حکومتی سطح پر آسان قرضوں، سبسڈی اور مستحکم پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کی رسائی شمسی توانائی تک ہو سکے۔ پانچویں، سولر سسٹم کی باقاعدہ دیکھ بھال اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے پیرووسکائٹ اور بائیفاسیل پینلز کو اپنانا مستقبل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان تمام عوامل پر توجہ دے کر ہی ہم توانائی میں خود کفیل ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک جامع منصوبہ بندی اور مشترکہ کوششوں کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ ہم سب ایک روشن اور پائیدار مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: پاکستان میں شمسی توانائی کے پینل لگوانے کے بعد اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں کیا بڑے چیلنجز درپیش ہیں؟
ج: میرے دوستو، یہ سوال بہت اہم ہے اور اکثر لوگ یہی غلطی کرتے ہیں۔ شمسی پینل لگوانا تو پہلا قدم ہے، اصل کہانی تو اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ بس پینل لگ گئے تو سارے مسئلے حل ہو گئے، لیکن حقیقت تھوڑی مختلف ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ بجلی کو ذخیرہ کرنے کا ہے۔ جب دھوپ نہیں ہوتی یا رات ہو جاتی ہے تو کیا کریں گے؟ اس کے لیے جدید بیٹری اسٹوریج سسٹمز (جیسے لیتھیم آئن بیٹریاں) کی ضرورت ہوتی ہے، جو ابھی تک کافی مہنگے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوں تو رات کو آپ پھر سے واپڈا کی بجلی پر منحصر ہو جاتے ہیں۔دوسرا بڑا چیلنج گرڈ کے ساتھ انضمام (Grid Integration) ہے۔ ہم میں سے کئی لوگ سولر لگوا کر اپنی اضافی بجلی گرڈ کو واپس بیچنا چاہتے ہیں، جسے “نیٹ میٹرنگ” کہتے ہیں۔ پاکستان میں یہ نظام موجود تو ہے، لیکن اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ کبھی نیٹ میٹرنگ کی منظوری میں تاخیر ہوتی ہے، تو کبھی گرڈ کی صلاحیت اتنی مضبوط نہیں ہوتی کہ وہ اتنی بڑی مقدار میں شمسی توانائی کو مؤثر طریقے سے سنبھال سکے۔ جب زیادہ لوگ سولر پر منتقل ہو رہے ہیں، تو یہ گرڈ پر دباؤ بھی بڑھا رہا ہے اور بجلی کمپنیوں کی آمدنی کم کر رہا ہے، جس پر حکومت بھی فکرمند ہے۔ایک اور اہم پہلو مقامی مینوفیکچرنگ کی کمی ہے۔ ہم زیادہ تر پینل اور ان کے لوازمات باہر سے درآمد کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی قیمت بڑھتی ہے بلکہ ہم درآمدی پالیسیوں پر بھی منحصر رہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ پچھلے سال درآمدی پینلز پر 10 فیصد نیا ٹیکس لگایا گیا تھا، جس سے بہت سے لوگوں کے بجٹ متاثر ہوئے تھے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں نہ صرف تکنیکی حل چاہیے بلکہ حکومتی سطح پر بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
س: شمسی توانائی کے شعبے میں کون سی نئی ٹیکنالوجیز آ رہی ہیں جو اس نظام کو مزید کارآمد اور سستا بنا سکتی ہیں؟
ج: شمسی توانائی کا مستقبل بہت روشن ہے، اور مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ ٹیکنالوجی کتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، نئی ٹیکنالوجیز جیسے “پیرووسکائٹ سولر سیلز” (Perovskite Solar Cells) اور “بائفاسیل پینلز” (Bifacial Panels) شمسی توانائی کو مزید کارآمد اور سستا بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔پیرووسکائٹ سیلز کے بارے میں جان کر مجھے تو حیرت ہوئی تھی!
یہ موجودہ سلیکون پینلز کے مقابلے میں کم لاگت پر زیادہ توانائی پیدا کر سکتے ہیں۔ لیبارٹری کے تجربات میں ان کی کارکردگی 43 فیصد تک دیکھی گئی ہے، جو کہ ایک انقلابی بات ہے۔ سوچیں اگر یہ عام ہو جائیں تو کتنی بجلی سستی ہو جائے گی!
یہ سیلز پتلی، لچکدار اور ہلکی ہوتی ہیں، جس سے ان کی تنصیب بھی آسان ہو سکتی ہے۔ میں تو بہت پرجوش ہوں کہ یہ کب مارکیٹ میں عام دستیاب ہوں گے تاکہ ہم سب اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔دوسری طرف “بائفاسیل پینلز” ہیں، جو دونوں طرف سے سورج کی روشنی جذب کر سکتے ہیں۔ عام پینلز صرف اوپر سے سورج کی روشنی لیتے ہیں، لیکن بائفاسیل پینلز پیچھے سے بھی منعکس شدہ روشنی کو استعمال کر لیتے ہیں، جس سے ان کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر اگر یہ ایسی جگہ لگائے جائیں جہاں زمین یا چھت سے روشنی منعکس ہوتی ہو، تو یہ بہت فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کا مقصد صرف زیادہ بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ دینا ہے، جو ہم پاکستانیوں کے لیے بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے نجات کا بہترین راستہ ہے۔
س: شمسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے افراد اور حکومت کس طرح مل کر کام کر سکتے ہیں، تاکہ طویل مدتی فوائد حاصل ہوں؟
ج: یہ ایک بہت اہم سوال ہے، اور میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ جب تک ہم سب مل کر کام نہیں کریں گے، کوئی بڑا انقلاب نہیں آ سکتا۔ پاکستان میں شمسی توانائی کا فروغ ایک “خاموش انقلاب” کی طرح ہے، جہاں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سولر اپنا رہے ہیں۔ لیکن اسے حقیقی معنی میں کامیاب بنانے کے لیے افراد اور حکومت دونوں کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ہم افراد کی حیثیت سے کیا کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے تو معیاری سولر پینل اور انورٹرز کا انتخاب کریں اور کسی قابلِ اعتماد انسٹالر سے کام کروائیں۔ اکثر لوگ سستے کے چکر میں ہلکی کوالٹی کی چیزیں لگوا لیتے ہیں جو بعد میں پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ہمیں توانائی کے بہتر استعمال کے بارے میں بھی آگاہی حاصل کرنی چاہیے، تاکہ ہم کم توانائی میں زیادہ سے زیادہ کام چلا سکیں۔ اگر آپ نیٹ میٹرنگ کا سوچ رہے ہیں، تو اس کے طریقہ کار کو اچھی طرح سمجھیں اور اس کے لیے تمام ضروری کاغذات اور اجازت نامے بروقت حاصل کریں۔ جب میں نے خود اپنے گھر میں سولر سسٹم لگوایا تھا، تو مجھے کئی چیزیں خود سیکھنی پڑی تھیں۔حکومتی سطح پر، سب سے پہلے تو مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا چاہیے۔ اگر ہم پینل اور بیٹریوں کی تیاری ملک کے اندر شروع کر دیں تو قیمتیں خود بخود کم ہو جائیں گی اور ملک کی معیشت بھی مضبوط ہو گی۔ حکومت کو بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی کی ترقی اور درآمد پر ٹیکس چھوٹ دینی چاہیے، تاکہ لوگ زیادہ آسانی سے بیک اپ سسٹمز خرید سکیں۔ گرڈ کے انضمام کو مزید بہتر بنانے کے لیے “اسمارٹ گرڈ” سسٹم پر کام کرنا چاہیے، جو شمسی توانائی کے اتار چڑھاؤ کو مؤثر طریقے سے سنبھال سکے۔ اس کے علاوہ، شمسی توانائی کے حوالے سے واضح اور مستقل پالیسیاں بہت ضروری ہیں، تاکہ سرمایہ کاروں اور عام صارفین کا اعتماد بحال ہو。 حکومت نے 2030 تک اپنی بجلی کا ایک بڑا حصہ قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ اگر یہ دونوں شعبے مل کر کام کریں تو نہ صرف ہم بجلی کے بحران سے نکل آئیں گے بلکہ ایک سرسبز اور روشن پاکستان کی بنیاد بھی رکھ سکیں گے۔






